لاہور میں مہنگائی کے باعث شہریوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور کم آمدنی والا طبقہ سب سے زیادہ متاثر نظر آ رہا ہے۔
روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو بجٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق مختلف برانڈز کے گھی کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔ درجہ اول گھی تقریباً 600 روپے فی کلوگرام، درجہ دوم 545 روپے جبکہ درجہ سوم گھی 470 روپے فی کلوگرام میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت اور سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے قیمتوں میں کمی کے امکانات فی الحال محدود ہیں۔اسی طرح دودھ، دہی اور گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری طور پر دودھ کی قیمت 170 روپے فی لیٹر مقرر ہے، تاہم مختلف علاقوں میں یہ 240 سے 250 روپے فی لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق مقررہ نرخوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث انہیں اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
دہی اور گوشت کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس سے روزمرہ اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے اور بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں پر سخت نگرانی کی جائے اور سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ماہرین معاشیات کے مطابق مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مارکیٹ مانیٹرنگ کو مؤثر بنانا، سپلائی چین کو بہتر کرنا اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے، تاکہ قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم ہو سکے۔