مہنگائی کا طوفان برقرار، دودھ، دہی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ

مہنگائی کا طوفان برقرار، دودھ، دہی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ

شہر میں مہنگائی اور گراں فروشی پر قابو نہ پایا جا سکا، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق روزمرہ استعمال کی اہم اشیاء جن میں چاول، گھی، دالیں، گوشت، دودھ اور دہی شامل ہیں، کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث شہریوں کے گھریلو بجٹ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق چاول مختلف اقسام کے حساب سے 320 سے 640 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں بھی بڑھ کر 490 سے 610 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں۔دوسری جانب دودھ اور دہی کی قیمتوں پر بھی سرکاری نرخوں پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ مارکیٹ سروے کے مطابق دودھ کی سرکاری قیمت 170 روپے فی لیٹر مقرر ہے، تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں یہ 220 سے 240 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس طرح صارفین سے فی لیٹر تقریباً 50 سے 70 روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔اسی طرح دہی کی سرکاری قیمت 190 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں یہ 240 سے 260 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جس سے شہریوں پر مزید مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بیشتر علاقوں میں سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد نظر نہیں آتا اور دکاندار اپنی مرضی کے ریٹس وصول کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی کے ساتھ ساتھ ناجائز منافع خوری نے عام آدمی کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔دوسری جانب دودھ فروشوں کا مؤقف ہے کہ جانوروں کی خوراک، بجلی، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باعث موجودہ قیمتوں پر کاروبار چلانا مشکل ہو گیا ہے۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مؤثر نگرانی کی جائے، سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور زائد قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔