منی پور میں جاری نسلی فسادات اور بھارت کی موجودہ حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے تشویشناک ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، مودی کی مجرمانہ خاموشی اور غفلت کے سبب منی پور میں حالات بدتر ہو رہے ہیں، اور یہ فسادات 1990 کی دہائی کی خانہ جنگی کی سطح تک پہنچنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق، یوکھرل میں قبائلی تنازعہ نے 50 سے زائد گھروں کو تباہ کیا ہے اور کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے اکثر قبائلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ مودی حکومت کی غفلت اور انتہا پسند ہندوتوا نظام کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ پروفیسر اجائیلیو نیومائی کے مطابق، یہ تنازعہ نوے کی دہائی کی خانہ جنگی سے زیادہ تباہ کن ہو سکتا ہے۔منی پور کے قبائلی رہنماؤں نے حکومتی پالیسیوں سے عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ایک الگ انتظامیہ کا حتمی اعلان بھی کیا ہے۔
معروف صحافی دھیرین سادوکپم کے مطابق، مودی کی سرپرستی میں انتہا پسند عناصر منی پور کو تقسیم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، اور مقامی رہنماؤں جیسے چیئرمین ہل ایریا کمیٹی اور جنرل سیکرٹری تھادو اِنپی نے حکومتی پالیسیوں سے شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔یہ صورت حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارت میں اندرونی نسلی اور علاقائی تنازعات حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں، اور حکومتی غفلت اور عدم توجہ حالات کو بگڑنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔