افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان حکومت کے سابق ڈپٹی گورنر اور مقامی کمانڈر جمعہ خان فاتح اور طالبان حکام کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی بڑھنے کی اطلاعات ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، افغان خبر رساں ادارے افغانستان انٹرنیشنل نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعہ خان فاتح نے طالبان حکومت کے خلاف اپنی عسکری تیاریوں میں اضافہ کرتے ہوئے جنگجوؤں کی تنظیم نو اور مقامی عمائدین سے مشاورت کا عمل تیز کر دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے مذاکرات اور نئے عہدے کی پیشکش کے باوجود جمعہ خان فاتح نے حکومتی ڈھانچے میں واپسی سے انکار کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھتے ہوئے فوجی اور لاجسٹک تیاریوں کو بھی مکمل کر لیا ہے۔ جمعہ خان فاتح کا مؤقف ہے کہ بدخشاں کا دشوار گزار پہاڑی علاقہ کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کو طالبان حکومت کے لیے مشکل بنا سکتا ہے۔رپورٹ میں بیان کردہ ان دعوؤں کی طالبان حکومت کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔