قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اور حکومتی وزرا کے درمیان ہاتھا پائی اور شدید تلخ کلامی

قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اور حکومتی وزرا کے درمیان ہاتھا پائی اور شدید تلخ کلامی

اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اس وقت ماحول کشیدہ ہو گیا جب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی تقاریر کے دوران پی ٹی آئی ارکان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی۔

تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی ارکان احتجاجاً پیپلز پارٹی ارکان کی نشستوں کے سامنے آ گئے، جس سے دونوں جماعتوں کے ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مداخلت کرتے ہوئے پی ٹی آئی رکن اقبال آفریدی کو مخاطب کیا اور کہا: "یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ اسمبلی نہیں چلنے دیں گے۔"

بعد ازاں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی تقریر کے دوران بھی پی ٹی آئی ارکان نے شور شرابہ شروع کیا۔ احتجاج کے دوران اقبال آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے حکومتی وزرا سے ہاتھا پائی کی کوشش کی گئی، تاہم اسمبلی کا سکیورٹی عملہ فوری طور پر حرکت میں آیا اور صورتحال کو سنبھال لیا۔

دورانِ اجلاس نثار جٹ، شفقت عباس اور عطا اللہ تارڑ کے درمیان بھی شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی۔ وزیر حنیف عباسی، آغا رفیع اللہ، امیر مقام اور عطا اللہ تارڑ وزیر خزانہ کے گرد ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے تاکہ انہیں کسی ممکنہ حملے سے محفوظ رکھا جا سکے۔اپوزیشن کے احتجاج، تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی کوششوں کے باعث اجلاس کا ماحول خاصا کشیدہ رہا، تاہم اسپیکر کی مداخلت اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی سے بڑا تصادم ٹل گیا۔