اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کیش لیس اکانومی کے فروغ سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں ڈیجیٹل لین دین کو آسان اور مؤثر بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احد چیمہ، علی پرویز ملک، شزا فاطمہ، مصدق ملک کے علاوہ گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
اجلاس کے اہم نکات:
وزیراعظم نے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کمیٹی اور گورنمنٹ پیمنٹس کمیٹی کے قیام کی ہدایت دی۔کمیٹیوں کی ذیلی شاخیں (سب کمیٹیاں) ادائیگیوں کے نظام، ڈیجیٹل آگاہی اور سفارشات مرتب کریں گی۔وزیراعظم نے ہدایت دی کہ "راست" ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام نہ صرف وفاق بلکہ تمام صوبوں میں قائم کیا جائے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل لین دین کا فروغ معیشت میں شفافیت اور اعتماد بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم بیانات:
"ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہمیں بھی کیش لیس نظام اپنانا ہوگا تاکہ معیشت میں جدیدیت اور شفافیت لائی جا سکے۔""ادائیگیوں کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا تاکہ شہریوں کو سہولت میسر ہو اور کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکے۔"وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان لین دین کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جائے تاکہ بینکاری نظام میں موجود رقوم کو بہتر سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جا سکے۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں کیش لیس معیشت کے لیے قانونی، تکنیکی اور مالیاتی ڈھانچے کو مستحکم کیا جائے گا، جس میں عوامی آگاہی مہم بھی شامل ہو گی۔یہ اقدامات پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کی جانب ایک بڑے قدم کی طرف لے جا سکتے ہیں۔