وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں ڈیجیٹل اور کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے مقررہ اہداف کو دوگنا کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
یہ ہدایات وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے ہفتہ وار جائزہ اجلاس کے دوران دی گئیں، جہاں متعلقہ کمیٹیوں اور اداروں نے پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی۔
ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز میں شفافیت کلیدی
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ادائیگیاں نہ صرف معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرتی ہیں بلکہ مالیاتی شفافیت، ٹیکس نیٹ میں اضافہ، اور کاروبار میں سہولت کو بھی یقینی بناتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیش لیس معیشت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور تمام حکام اس قومی مقصد کے لیے مکمل سنجیدگی سے کام کریں۔
تین کلیدی کمیٹیوں نے بریفنگ دی
اجلاس میں بتایا گیا کہ پچھلے اجلاس میں قائم کردہ تین کمیٹیوں:
ڈیجیٹل پیمنٹس انوویشن اینڈ ایڈوپشن کمیٹی
ڈیجیٹل پبلک انفرا اسٹرکچر کمیٹی
گورنمنٹ پیمنٹس کمیٹی
نے اپنی ابتدائی رپورٹس اور سفارشات وزیراعظم کو پیش کی ہیں۔
ڈیجیٹل اقدامات کی موجودہ صورتحال
اسٹیٹ بینک تاجر طبقے کی شمولیت کے لیے نیا پیکیج متعارف کرا رہا ہے۔اسلام آباد سٹی ایپ 1.3 ملین بار ڈاؤن لوڈ ہو چکی، 15 سروسز دستیاب ہیں، اور اب تک 15.5 ارب روپے وصول ہو چکے۔ڈیجیٹل پاکستان آئی ڈی اور ای-اسٹیمپنگ جیسے منصوبوں پر کام تیز ہے۔وفاقی اسپتالوں، تعلیمی اداروں، دفاتر، پارکس، اور میٹرو لائنز پر وائی فائی کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔
مزید وسعت اور علاقائی توسیع
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یہ تمام سہولیات جلد از جلد آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، اور دیگر وفاقی علاقوں تک پھیلائی جائیں تاکہ ڈیجیٹل پاکستان کا خواب جلد شرمندہ تعبیر ہو سکے۔
اجلاس میں شریک اعلیٰ حکام
اجلاس میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی سمیت متعدد اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔