مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے ممکنہ فیصلے پر امریکہ نے چین سے سفارتی مدد طلب کر لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بین الاقوامی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ:"آبنائے ہرمز کو بند کرنا معاشی خودکشی کے مترادف ہوگا، اور اس اقدام کے اثرات صرف امریکا تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ چین، بھارت اور جاپان جیسے بڑے تجارتی ممالک بھی شدید متاثر ہوں گے۔"
چین کو کردار ادا کرنے کی دعوت
مارکو روبیو نے کہا کہ چین کو اس معاملے میں سنجیدہ سفارتی کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ایران کو اس طرح کے اقدامات سے باز رکھا جا سکے:"اگر ایران آبنائے ہرمز بند کرتا ہے تو سب سے پہلے چین کو غصہ آنا چاہیے، کیونکہ ان کا تیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے آتا ہے۔"
بین الاقوامی ردعمل کی ضرورت
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ:"واشنگٹن اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، تاہم دیگر ممالک، خاص طور پر چین، جاپان اور یورپی اقوام کو بھی فوری توجہ دینی چاہیے۔ اس اقدام سے دنیا بھر کی معاشی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔"
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز کو دنیا کے اہم ترین تیل تجارتی راستوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔ اس کی بندش سے عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔
ایران کا مؤقف
ایرانی حکام کی جانب سے فی الوقت کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل کے طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کو ایک اسٹریٹجک دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ
امریکا کی جانب سے چین سے مدد طلب کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن اس بحران کو صرف عسکری نہیں بلکہ سفارتی طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔ خطے میں طاقت کے توازن اور توانائی کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لیے آئندہ چند روز بین الاقوامی سفارتکاری کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔