وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار اور ایل این جی کارگوز کی خریداری سے متعلق اہم اجلاس آج طلب کر لیا ہے، جس میں وفاقی وزراء اور توانائی شعبے کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے موجودہ نظام، اس کے اثرات اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ بنیاد پر تعین کے طریقہ کار کے نفاذ کے بعد اس کے نتائج اور عوام پر پڑنے والے ممکنہ اثرات بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف پیٹرولیم قیمتوں کے نظام سے متعلق اہم ہدایات جاری کر سکتے ہیں تاکہ قیمتوں کے تعین کے عمل کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔اجلاس میں ایل این جی کارگوز کی خریداری کا معاملہ بھی اہم ایجنڈے کے طور پر شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان کو ایل این جی کے حصول کے لیے اسپاٹ مارکیٹ پر زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ قطر سے ایل این جی سپلائی میں تعطل کے باعث پاکستان کو نسبتاً مہنگے داموں اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگوز خریدنا پڑے، جبکہ جولائی کے لیے ملک پہلے ہی پانچ ایل این جی کارگوز حاصل کر چکا ہے۔توانائی ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور خطے کی غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان کے لیے توانائی کی مسلسل فراہمی اور مناسب قیمتوں پر حصول ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں توانائی تحفظ، درآمدی اخراجات میں کمی اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق پالیسی اقدامات پر بھی غور متوقع ہے۔