پاکستان نے مئی کے لیے ایل این جی اسپاٹ خریداری کے ٹینڈر جاری کر دیے، جس کے تحت دو کارگوز کے لیے عالمی سپلائرز سے بولیاں طلب کی گئی ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق عالمی توانائی کمپنیاں ان ٹینڈرز کے لیے 7 مئی تک بڈز جمع کرا سکیں گی، جبکہ اسی روز بولیوں کو کھولنے کا بھی شیڈول ہے تاکہ شفاف اور فوری فیصلے کو یقینی بنایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق مئی کے پہلے ایل این جی کارگو کی ممکنہ سپلائی 12 سے 14 مئی کے درمیان شیڈول کی گئی ہے، جبکہ دوسرا کارگو 24 سے 26 مئی کے دوران پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ کارگوز ملک میں توانائی کی طلب اور گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے حاصل کیے جا رہے ہیں۔توانائی ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے اسپاٹ ایل این جی کی خریداری عام طور پر اس وقت بڑھتی ہے جب مقامی گیس پیداوار طلب کو پورا نہ کر رہی ہو یا صنعتی و گھریلو استعمال میں اضافہ ہو رہا ہو۔
اس طریقہ کار سے حکومت کو فوری سپلائی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے، تاہم اسپاٹ مارکیٹ کی قیمتیں طویل مدتی معاہدوں کے مقابلے میں عموماً زیادہ اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتی ہیں۔مجموعی طور پر یہ اقدام ملک میں توانائی کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور موسمِ گرما میں بڑھتی ہوئی گیس کی طلب کو پورا کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر بجلی گھروں اور صنعتی شعبے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔