سیلابی صورتحال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے: سینیٹر شیری رحمٰن

سیلابی صورتحال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے: سینیٹر شیری رحمٰن

 پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹر شیری رحمٰن نے بھارت کے آبی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سیلابی صورتحال کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔

اپنے بیان میں شیری رحمٰن نے کہا کہ ایک جانب بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی جیسے اہم معاملے کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے ذمہ داری اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے سلال ڈیم کے گیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانی شہریوں کو سیلابی خطرات سے دوچار کر دیا۔ شیری رحمٰن کے مطابق بھارت کی غیر ذمہ دارانہ آبی پالیسی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن اور باہمی اعتماد کے لیے نقصان دہ ہے۔سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بروقت معلومات فراہم نہ کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس کے باعث دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے اور پانی کے بہاؤ میں اچانک تبدیلی سے آبپاشی کے نظام، فصلوں اور کسانوں کے روزگار کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ دریاؤں کے منظم اور متوازن بہاؤ سے جڑا ہوا ہے، اس لیے آبی وسائل کے استعمال میں ذمہ داری اور شفافیت ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو بین الاقوامی معاہدوں اور بالخصوص سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی دریاؤں کے پانی سے متعلق طے شدہ اصولوں کے تحت بھارت کو پانی ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ علاقوں میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔انہوں نے زور دیا کہ دریاؤں کے پانی کو کشیدگی کا ذریعہ بنانے کے بجائے تعاون، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ انتظام کے ذریعے خطے میں آبی تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔