ویب ڈیسک: پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیری رحمٰن نے ایوانِ صدر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جس میں بجٹ اجلاس، قانون سازی اور حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے تناظر میں سفارتی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سینیٹ میں بجٹ اور قانون سازی پر بریفنگ:
سینیٹر شیری رحمٰن نے صدر زرداری کو:
سینیٹ میں جاری بجٹ بحث
قانون سازی کے اہم مراحل
پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کارکردگی سے آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور قومی مفاد میں متوازن مؤقف اختیار کیا۔
پاک-بھارت کشیدگی اور سفارتی کوششیں:
شیری رحمٰن نے کوآلیشن جوائنٹ کمیٹی کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی، جو حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران:عالمی برادری کو پاکستان کے امن پسند مؤقف سے آگاہ کرنے میں پیش پیش رہی۔بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم سفارت کاری کی گئی۔انہوں نے اس موقع پر کہا:"کمیٹی نے پاکستان کے اصولی مؤقف کو مؤثر طریقے سے دنیا کے سامنے رکھا۔"
قومی قیادت کا شکریہ اور حوصلہ افزائی:
سینیٹر شیری رحمٰن نے صدر مملکت اور وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے:کمیٹی اور اس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا۔یہ اعتماد ٹیم کے لیے حوصلہ افزا اور رہنمائی کا باعث ہے۔
صدر زرداری کی ستائش:
صدر مملکت آصف علی زرداری نے:کمیٹی کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف نمایاں اور مؤثر انداز میں اجاگر کرنے پر ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی کارکردگی کو قابلِ فخر قرار دیا۔
خلاصہ:
ایوانِ صدر میں ہونے والی اس ملاقات میں نہ صرف پارلیمانی و سفارتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا بلکہ پاکستان کے موجودہ حالات میں متحدہ، منظم اور مؤثر حکمت عملی اپنانے پر اتفاق رائے پایا گیا۔ ملاقات قومی قیادت کے درمیان باہمی مشاورت اور اعتماد کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔