سربراہ ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن سے ایف بی آئی کی 300 ملین ڈالرز کی منی لانڈرنگ کی تحقیقات

سربراہ ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن سے ایف بی آئی کی 300 ملین ڈالرز کی منی لانڈرنگ کی تحقیقات

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء سے منسلک 300 ملین ڈالرز سے زائد کی اسپانسر شپ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن (AFA) کے صدر کلاڈیو تاپیا سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ارجنٹینا کی قومی ٹیم ورلڈ کپ کے بعد امریکا سے بیونس آئرس روانگی کے لیے چارٹر طیارے میں سوار ہونے والی تھی کہ اسی دوران امریکی حکام نے کلاڈیو تاپیا کو روک لیا۔ ذرائع کے مطابق ان سے تقریباً 30 منٹ تک پوچھ گچھ کی گئی، جبکہ ان کا موبائل فون بھی تحقیقات کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا گیا۔بعض میڈیا رپورٹس میں کلاڈیو تاپیا کی گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا، تاہم ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو تاپیا اور نہ ہی تنظیم کے فنانسر پابلو توویگینو کو کسی امریکی عدالت نے طلب کیا ہے اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ایسوسی ایشن نے البتہ اس بات کی تصدیق کی کہ ایک تیسرے شخص کو امریکی گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہونے کا سمن جاری کیا گیا ہے، جہاں ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن کے بعض عہدیداروں سے متعلق معلومات طلب کی جا سکتی ہیں۔رپورٹس کے مطابق ایف بی آئی ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن کے 300 ملین ڈالرز سے زائد مالیت کے تجارتی اور اسپانسر شپ معاہدوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان رقوم کو امریکی بینکاری نظام کے ذریعے منتقل کر کے منی لانڈرنگ یا مالی بے ضابطگی کی کوئی کوشش تو نہیں کی گئی۔

بینکاری ریکارڈز کے مطابق لاکھوں ڈالرز مختلف امریکی مالیاتی اداروں کے اکاؤنٹس سے گزرے، جہاں بعض رقوم چند روز تک رکھنے کے بعد دوسرے اکاؤنٹس میں منتقل کر دی گئیں۔ تفتیش کار انہی مالی لین دین کی نوعیت اور قانونی حیثیت کا جائزہ لے رہے ہیں۔یہ تحقیقات گزشتہ برس ارجنٹینا میں مبینہ منی لانڈرنگ کے شبے میں ہونے والی چھاپہ مار کارروائیوں کے بعد فٹبال کے مالی معاملات کی وسیع تحقیقات کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں۔تاہم اب تک امریکی حکام نے کلاڈیو تاپیا یا ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن کے خلاف کسی باقاعدہ فردِ جرم یا قانونی کارروائی کا اعلان نہیں کیا ہے، جبکہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔