یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے یمن کے صوبہ مأرب کی فضائی حدود میں سعودی ایف 15 لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق طیارے کو مقامی طور پر تیار کردہ میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔یحییٰ سریع نے کہا کہ سعودی طیارہ مأرب میں فوجی کارروائیوں کی حمایت میں آپریشن انجام دے رہا تھا۔ حوثی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے دیگر سعودی لڑاکا طیاروں کا بھی مقابلہ کیا اور انہیں علاقے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔حوثیوں کی جانب سے سعودی ایف 15 کو مار گرانے کے دعوے کی تاحال سعودی حکام یا سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے طیارے کے تباہ ہونے کا دعویٰ فی الحال حوثی فورسز کے بیان تک محدود ہے۔یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے درمیان لڑائی میں حالیہ دنوں کے دوران شدت آئی ہے۔ حوثیوں نے اس سے قبل سعودی عرب کی جانب سے یمن میں فضائی حملوں کا دعویٰ بھی کیا تھا، جبکہ سعودی اتحاد نے حوثی حملوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل روکنے اور تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کارروائیوں کا ہدف سعودی فوجی اور تیل سے متعلق تنصیبات ہیں۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سعودی عرب میں مختلف مقامات پر سکیورٹی الرٹس بھی جاری کیے گئے ہیں، جبکہ یمن میں جاری لڑائی کے باعث انسانی صورتحال پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔