لاہور: رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش نے لاہور میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا کر دی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقے اور اہم شاہراہیں زیرِ آب آ گئیں۔
کئی مقامات پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے گھروں میں پانی داخل ہوگیا، سیوریج نظام مفلوج ہو گیا جبکہ ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر رہی۔شہر میں رات سے وقفے وقفے سے جاری بارش کے باعث کینٹ، ڈیفنس، والٹن، کیولری گراؤنڈ، علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا، جس سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔لاہور کینٹ میں شدید بارش کے باعث سیوریج نظام جواب دے گیا، جبکہ ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی گھروں میں پانی داخل ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ والٹن روڈ، کیولری گراؤنڈ، مین ڈیفنس روڈ اور ڈیفنس انڈر پاس مکمل طور پر زیرِ آب آ گئے، جس کے باعث ٹریفک کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ آج بھی وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ مون سون بارشوں کے باعث شہر میں حبس اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ آج لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 اور زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے۔
بارش کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 262 ملی میٹر بارش علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129، مغل پورہ میں 127، اپر مال میں 111، جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ پر 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب میں 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 جبکہ گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
شدید بارش کے باعث علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن بھی متاثر ہوا۔ لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی اور استنبول جانے اور وہاں سے آنے والی کم از کم چھ پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو روانگی سے قبل اپنی پروازوں کی تازہ صورتحال معلوم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ادھر ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ واسا کی ٹیمیں مختلف علاقوں سے پانی نکالنے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے مون سون بارشوں کے پیشِ نظر تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور ریسکیو و امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ انہوں نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز اور مقامی انتظامیہ کو مکمل رابطے میں رہنے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بارشوں اور آبی صورتحال کی مسلسل نگرانی کرنے اور نشیبی علاقوں میں ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔