امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے مسلسل 12ویں روز ایرانی فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی دستے، جدید جنگی سازوسامان اور طبی عملہ بھی روانہ کر دیا گیا ہے۔ تازہ پیش رفت نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر بدھ کی شام امریکی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 30 منٹ پر ایرانی فوجی اہداف کے خلاف نئی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جن کے ذریعے وہ علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری آمدورفت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور عراق کے درمیان واقع شلامچہ سرحدی گزرگاہ کے قریب ایک علاقے کو امریکی فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ میڈیا کی جانب سے حملے کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں، تاہم حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان، ممکنہ جانی خسارے یا دیگر تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید توسیع کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی دستے، طبی عملہ اور جدید ہتھیار منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔رپورٹ کے مطابق امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز خطے میں پہنچ چکی ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے مختلف مقامات پر لڑاکا طیارے بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکا اور برطانیہ میں قائم فضائی اڈوں پر موجود بمبار طیاروں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ادھر امریکی ایوانِ نمائندگان نے مالی سال 2027 کے لیے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (NDAA) کی منظوری بھی دے دی ہے، جس کے تحت دفاعی اخراجات کے لیے ریکارڈ 1.15 ٹریلین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ یہ بل 212 کے مقابلے میں 216 ووٹوں سے منظور ہوا۔اگرچہ ڈیموکریٹک ارکان نے دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافے، ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور اسرائیل کے ساتھ پینٹاگون کے دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے سے متعلق شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا، تاہم ریپبلکن اکثریت کی حمایت کے باعث بل باآسانی منظور کر لیا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی فوجی سرگرمیوں میں تیزی اور دفاعی اخراجات میں ریکارڈ اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنی عسکری موجودگی مزید مضبوط بنانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔