جارج ٹاؤن: جنوبی امریکی ملک گیانا کے ساحل کے قریب مسافر فیری الٹنے کے المناک حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 41 ہو گئی، جبکہ 61 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
کئی روز گزرنے کے باوجود امدادی ٹیمیں متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں اور سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔گیانا حکومت کے مطابق حادثے میں اب تک 77 افراد کو بحفاظت زندہ بچا لیا گیا ہے، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے بحری اور فضائی سطح پر وسیع پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھا گیا ہے۔حکام کے مطابق ایم وی باریما نامی مسافر فیری ہفتے کی شب دارالحکومت جارج ٹاؤن سے پورٹ کیتھوما جا رہی تھی کہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں ساحل سے تقریباً سات میل دور اچانک الٹ گئی۔وزیرِ تعمیرات خوان ایج ہل نے بتایا کہ ابتدائی طور پر فیری میں 133 مسافروں کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم بورڈنگ کی ویڈیو کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ کشتی میں مجموعی طور پر 179 افراد سوار تھے، جس کے باعث ریسکیو آپریشن مزید پیچیدہ ہو گیا۔حکام کے مطابق حادثے سے قبل رات تقریباً 11 بجے فیری کی جانب سے ایئر ٹریفک کنٹرول کو ہنگامی پیغام موصول ہوا، جس کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ تاہم اندھیرے اور جدید سرچ آلات کی کمی کے باعث ابتدائی ریسکیو سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بعد ازاں آئل اینڈ گیس کمپنیوں نے جدید اسکینرز سے لیس بحری جہاز امدادی کارروائیوں کے لیے فراہم کیے، جبکہ غوطہ خوروں کو فیری کے اندر پھنسے افراد اور لاشوں کی تلاش کے لیے تعینات کیا گیا۔
حکام نے سرچ ایریا کو 400 مربع کلومیٹر سے بڑھا کر 1,040 مربع کلومیٹر تک وسیع کر دیا ہے تاکہ لاپتا افراد کو جلد از جلد تلاش کیا جا سکے۔وزیرِ تعمیرات نے انکشاف کیا کہ فیری کے کپتان اور عملے کے دیگر ارکان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ طبی معائنے میں کپتان اور کم از کم ایک عملے کے رکن کا چرس (ماریجوانا) ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ مزید یہ بھی سامنے آیا ہے کہ متعدد بچ جانے والے افراد کے نام مسافروں کی سرکاری فہرست میں شامل نہیں تھے، جس کے باعث لاپتا افراد کی درست تعداد کا تعین کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ فیری کی 2024 میں مرمت کی گئی تھی، جبکہ رواں سال اس کا مکمل تکنیکی معائنہ بھی شیڈول تھا۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے جامع تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حکام نے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔