پٹرولیم قیمتوں کا نیا وار، 3 روز میں پٹرول 11.32 اور ڈیزل 20.69 روپے مہنگا

پٹرولیم قیمتوں کا نیا وار، 3 روز میں پٹرول 11.32 اور ڈیزل 20.69 روپے مہنگا

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل رد و بدل نے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ڈال دیا ہے، جہاں صرف تین روز کے دوران ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروریات زندگی مزید مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف تین دن میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 20 روپے 69 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا، جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 354 روپے 35 پیسے سے بڑھ کر 375 روپے 4 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔اسی عرصے کے دوران پٹرول کی قیمت میں بھی مجموعی طور پر 11 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ گزشتہ تین روز میں ایک موقع پر پٹرول کی قیمت میں 35 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، تاہم مجموعی طور پر اس کی قیمت 315 روپے 80 پیسے سے بڑھ کر 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بھی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا تھا، جس کے تحت ڈیزل 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر جبکہ پٹرول 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چھ روز کے دوران ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 52 روپے 19 پیسے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ اسی مدت میں پٹرول 16 روپے 76 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے اثرات براہِ راست ٹرانسپورٹ، زرعی شعبے اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر مرتب ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی نئی لہر آنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب شہریوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔