وفاقی حکومت آج پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی، جس میں پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 3 سے 4 روپے فی لیٹر تک کمی کی جا سکتی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 34 سے 35 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے حالیہ عرصے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے 15 روزہ کے بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر جائزہ لینے کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس کے تحت آج رات نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔گزشتہ ہفتے حکومت نے پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 22 روپے فی لیٹر کمی کی تھی۔ اس وقت پٹرول کی قیمت 381 روپے 78 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 380 روپے 78 پیسے فی لیٹر پر فروخت ہو رہا ہے۔
وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن وزیر اعظم شہباز شریف کی مشاورت کے بعد جاری کیا جائے گا، جس کے بعد یہ نرخ فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔دوسری جانب بلوچستان میں ایندھن کی فراہمی کے مسائل مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قلت کے باعث متعدد فلنگ اسٹیشنز بند ہو چکے ہیں، جبکہ کھلے پمپس پر شہریوں کی طویل قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ بعض علاقوں میں پٹرول کی قیمت 500 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔