پنجاب اور خیبرپختونخوا میں طوفانی بارشیں‘8افراد جاں بحق‘50 زخمی بھارت نے سلال ڈیم کے گیٹ کھول دئیے‘سیالکوٹ ‘ وزیر آباد میں سیلاب کا خطرہ

لاہور میں دوسرے روز بھی بادل کھل کر برسے‘نشیبی علاقے اور سڑکیں کئی فٹ پانی میں  ڈوب گئیں‘ شہریوں کو شدید مشکلات‘فیڈر ٹرپ ہونے سے متعدد علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل رہی
 طوفانی بارش  سے سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، حافظ آباد، وزیرآباد‘ملکوال، جہلم اور بھکر  ڈوب گئے‘ رائیونڈ کے علاقے کوٹ بابو خان میں گھر کی چھت گر گئی،  ایک شخص جاں بحق 3افراد زخمی 
پاکپتن‘گجرات اور گوجرانوالہ میں چھتیں‘دیواریں گرنے سے ہلاکتیں‘ چنیوٹ میں دریائے چناب کی موجیں مسجد کو بہا لے گئیں‘، دریائوں کے پاٹ میں موجود شہر ی محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں:پی ڈی ایم اے
لاہور،رائیونڈ(آئی این پی‘نامہ نگار )پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی، دریا بپھر گئے  ، درجنوں  مکانات  منہدم، نشیبی علاقے زیر آب آنے سے پانی گھروں اور کھڑی فصلوں کو ڈبو گیا،مختلف حادثات میں 26افراد جاںبحق اور 50سے زائد زخمی ہوگئے ‘لاہور میں دوسرے روز بھی بادل کھل کر برسے‘نشیبی علاقے اور سڑکیں کئی فٹ پانی میں  ڈوب گئیں‘ شہریوں کو شدید مشکلات‘فیڈر ٹرپ ہونے سے متعدد علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل رہی‘ جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغہ میں بھی بارش کے دوران مکان کی چھت گرگئی، جس کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق افراد میں میاں بیوی اور2 بچے شامل ہیں۔گوجرانوالہ میں بارش کے باعث چھتیں اور دیواریں گرنے کے آٹھ مختلف واقعات میں 3 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ بارش اور کرنٹ لگنے کے تین مختلف حادثات میں ایک شخص کی موت ہوئی اور دو زخمی ہوئے۔ کامونکی میں انڈر پاس میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر ایک بچہ جان کی بازی ہار گیا۔پاکپتن میں کچے مکان کی چھت گرنے سے 2 افراد جان سے گئے اور 2 زخمی ہوئے، جبکہ ساہیوال کے علاقے کوٹ خادم علی شاہ میں چھت گرنے سے ایک خاتون کی موت ہوگئی۔ ہڑپہ میں دکان کی چھت گرنے سے 3 افراد زخمی ہوئے۔ لاہور کے علاقے بند روڈ گلشن راوی کے قریب چھت گرنے سے 4 افراد زخمی ہوئے، منڈی بہائو الدین میں مختلف دیہاتوں میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے 8 افراد زخمی ہوئے، بہاولنگر میں شیڈ گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا جبکہ سیالکوٹ میں چھت گرنے سے 3 افراد زخمی ہوئے۔ مری اور کہوٹہ میں جزوی لینڈ سلائیڈنگ اور درخت گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔چنیوٹ میں دریائے چناب کی موجیں مسجد کو بہا لے گئیں۔ نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کرنے کیلئے   کشتیاں پہنچا دی گئیں۔جلال پور بھٹیاں میں زمینی کٹائو کی وجہ سے کسانوں کی ایکڑوں پر پھیلی فصل زیر آب آگئی۔   ضلع وزیرآباد اور گردونواح میں گزشتہ 36 گھنٹوں سے جاری وقفے وقفے کی بارش نے عام زندگی کو شدید متاثر کر دیا  ‘سات گھنٹے تک مسلسل طوفانی بارش نے نارووال کو ڈبو دیا۔ جسر کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث مکینوں کو نقل مکانی کی ہدایت کر دی گئی۔سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، حافظ آباد، ملکوال، جہلم اور بھکر شہر بھی بارش کے پانی میں ڈوب گئے۔ بارشوں کا یہ سلسلہ 23 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے‘دریں اثناء بھارت نے سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیئے جس سے سیالکوٹ اور وزیرآباد میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے