وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی گرفتاری اور سزا کو غیر قانونی اور غیر آئینی سمجھا جاتا ہے، اور ان کی حکومت ایسے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتی۔
انہوں نے یہ بیان موجودہ سیاسی صورتحال اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف جاری عدالتی کارروائیوں کے تناظر میں دیا۔اپنے ایک اہم بیان میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ سزائیں عوام کی رائے اور آئین پر حملہ ہیں اور ملک کو درپیش آئینی و قانونی بحران کا منبع انہی غیر آئینی اقدامات میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام کیے گئے غیر قانونی فیصلوں کو واپس لینا ہوگا تاکہ ملک میں جمہوریت اور قانون کی بالادستی بحال ہو سکے۔انہوں نے اعلان کیا کہ 5 اگست سے پاکستان کی حقیقی آزادی کی تحریک کا آغاز ہوگا۔ ان کے مطابق یہ تحریک اس سوچ کے خلاف ہوگی جو عوام کے مینڈیٹ کو دبانا چاہتی ہے اور جس نے سیاسی انتقام کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنا دیا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ "پی ٹی آئی کو ختم کرنے والے آج ماضی کا قصہ بنتے جا رہے ہیں، کیونکہ سچ کبھی دبایا نہیں جا سکتا۔ ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔"وزیراعلیٰ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر بلند ہو رہا ہے، اور اپوزیشن جماعتیں حکومتی اقدامات کو جمہوری و آئینی اصولوں کے منافی قرار دے رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام اور سیاسی آزادی ملک کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔