8 جولائی کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 کے ایک فلیٹ سے مردہ حالت میں پائی جانے والی پاکستانی اداکارہ حمیرا اصغر کے خلاف مالک مکان کی جانب سے دائر کرایہ داری کیس کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
نجی ٹی وی کو حاصل ہونے والی عدالتی دستاویزات کے مطابق اداکارہ اور مالک مکان کے درمیان کرائے کا تنازع 2019 سے جاری تھا، جو کئی عدالتی مراحل سے گزرا اور بالآخر 2025 میں عملدرآمد کے مرحلے تک پہنچا۔
کرائے کا معاہدہ اور تنازع کا آغاز:
حمیرا اصغر اور فلیٹ کے مالک کے درمیان کرائے کا معاہدہ 20 دسمبر 2018 کو طے پایا۔معاہدے کے مطابق کرایے میں ہر سال 10 فیصد اضافہ ہونا تھا، تاہم مالک مکان کے مطابق اداکارہ نے یہ اضافی ادائیگیاں نہیں کیں۔سال 2019 اور 2020 کے دوران حمیرا اصغر نے 40 ہزار روپے کی ادائیگی نہیں کی، جس کی بنا پر 3 جون 2021 اور 17 جون 2021 کو دو نوٹسز بھجوائے گئے۔
واجب الادا رقم میں اضافہ:
مالک مکان کے مطابق 2021 تک حمیرا پر واجب الادا رقم 92,400 روپے تک جا پہنچی، جو مسلسل اضافے کے بعد 2024 میں بڑھ کر 5 لاکھ 35 ہزار 84 روپے ہوگئی۔اداکارہ نے اس دوران بھی عدالتی نوٹسز کا کوئی جواب داخل نہیں کیا۔
عدالتی فیصلہ اور عملدرآمد:
21 ستمبر 2023 کو عدالت نے مکان مالک کے حق میں فیصلہ سنایا اور فلیٹ خالی کرنے کا حکم دیا۔26 مارچ 2025 کو عدالت نے اس فیصلے پر عملدرآمد کا حکم جاری کیا۔
واقعہ کی سنگینی:
8 جولائی 2025 کو، جب مکان مالک عدالتی حکم پر فلیٹ خالی کروانے پہنچا، تو فلیٹ سے اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش برآمد ہوئی، جس کے بعد واقعے نے نیا رخ اختیار کر لیا۔
مزید تحقیقات جاری:
پولیس اور متعلقہ حکام اس معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کر رہے ہیں، تاکہ اداکارہ کی موت کے محرکات، ممکنہ دباؤ یا دیگر عوامل کی جانچ کی جا سکے۔