معمولی تلخ کلامی کے بعد ہندو یاتریوں کا وردی میں ملبوس اہلکار کو زمین پر گرا کر مکوں، تھپڑوں اور لاتوں سے تشدد
نئی دہلی (آن لائن) بھارت میں مودی سرکار کے فسطائی ہندوتوا نظریے نے اب ریاستی اداروں اور سکیورٹی فورسز کو بھی نشانے پر لے لیا ہے۔ اقلیتوں کے بعد اب وردی پوش اہلکار بھی ہندوتوا جنونیوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار بننے لگے ہیں۔ 19 جولائی کو اتر پردیش کے شہر مرزاپور میں پیش آنے والا واقعہ اس بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کی خطرناک علامت ہے، جہاں ریلوے سٹیشن پر ڈیوٹی پر موجود ایک سی آر پی ایف اہلکار کو ہندوتوا یاتریوں نے سرعام زدوکوب کیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق واقعہ براہما پْترا ایکسپریس پر سوار ہونے کے انتظار کے دوران پیش آیا، جب معمولی تلخ کلامی کے بعد آٹھ سے زائد ہندو یاتریوں نے وردی میں ملبوس اہلکار کو زمین پر گرا کر مکوں، تھپڑوں اور لاتوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے پر مودی حکومت کی خاموشی اور حملہ آوروں کے خلاف کسی قسم کی فوری کارروائی نہ ہونے نے بھارت میں قانون کی حکمرانی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔