جامن کے 15، شیشم کے 2، شہتوت کاایک ، پیپر ملبری 9، کچنار 2، 4 آم اور ایلسٹویٹنا کا ایک ایک درخت بھی کاٹا گیا
لاہور (خصوصی رپورٹ)پنجاب یونیورسٹی ، جہاں شیخ زاید اسلامک سنٹر سے درختوں کی کٹائی کا سنگین معاملہ سامنے آیا۔پی ایچ اے کی تحقیقات میں درختوں کی غیر معمولی اور بڑے پیمانے پر کٹائی کے اہم انکشافات ہوئے ہیں۔تحقیقات کے مطابق قیمتی اور مقامی درخت بے دردی سے کاٹے گئے جس وزن 433 من سے بھی زائد ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کے شیخ زاید اسلامک سنٹر سے درختوں کی کٹائی کا معاملہ محض چند درختوں تک محدود نہیں رہا۔پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ شیخ زاید اسلامک سنٹر سے مجموعی طور پر پینتالیس درخت کاٹے گئے۔پی ایچ اے کی رپورٹ کے مطابق کٹنے والے درختوں میں قیمتی اور مقامی ساخت کے درخت شامل ہیں۔جامن کے پندرہ درخت، شیشم کے دو درخت اور شہتوت کا ایک درخت کاٹا گیا۔اسی طرح پیپر ملبری کے نو درخت، کچنار کے دو درخت اور دریک کے دو درخت بھی کٹائی کی زد میں آئے۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ گاب کے چار درخت، تن کے چار درخت جبکہ آم اور ایلسٹویٹنا کا ایک ایک درخت بھی کاٹا گیا۔ذرائع کے مطابق ان درختوں کی عمر دس سال سے پچیس سال کے درمیان تھی، یعنی یہ درخت مکمل نشوونما کے مرحلے میں تھے۔ اس عمر کے درختوں کا کاٹا جانا سبزہ زار کے لیے شدید نقصان کے مترادف ہے۔تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ درختوں کی کٹائی کے لیے شیخ زاید اسلامک سنٹر میں موجود دیوار کو بھی گرایا گیا،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کٹائی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق شیخ زاید اسلامک سنٹر سے کٹنے والے درختوں کا مجموعی وزن چار سو تینتیس من سے زائد ہے،جو اس کارروائی کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔ماضی میں بھی پنجاب یونیورسٹی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں درختوں کی کٹائی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں،تاہم ذمہ داروں کے تعین اور عملی کارروائی کے دعوے اکثر فائلوں تک محدود رہے۔پی ایچ اے حکام کے مطابق اس معاملے پر مزید قانونی کارروائی کا جائزہ لیا جا رہا ہے،جبکہ ماحولیاتی قوانین کے تحت ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی جا سکتی ہے۔