سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم جواد علی کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی

عدالت نے  نے نوجوان ہونے کی بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا 
ہائی کورٹ نے جواد علی کی اپیل خارج ، ٹرائل عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا
 اسلام آباد آ(ن لائن)سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم جواد علی کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی۔جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس ملک شہزاد خان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیس کا فیصلہ دیا جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔سپریم کورٹ نے نوجوان ہونے کی بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا ٹرائل کورٹ نے جواد علی کو قتل کے جرم میں سزائے موت  اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی لاہور ہائی کورٹ نے جواد علی کی اپیل خارج کر دی اور ٹرائل عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔جواد علی نے ننکانہ صاحب میں جولائی 2017 کو طلحہ امجد کو قتل کیا سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہاہے کہ مقتول کے والد محمد امجد اور چچا محمد آصف وقوعہ کے عینی شاہد ہیں ، واقعہ صبح کے وقت ہوا، روشنی تھی، ملزم کو پہچاننے میں کوئی شبہ نہیں پیدا ہوا، طبی شواہد، پوسٹ مارٹم اور فارنسک رپورٹ نے وقوعہ کی تصدیق کی، مقتول کے والد کے مطابق قتل کا محرک نوجوان کی عزت پر دباؤ اور سابقہ غیر اخلاقی مطالبات تھے