قائمہ کمیٹی اجلاس اسلام آباد میں80ہزاردرخت کاٹنے کا ہدف‘30 ہزار کی کٹائی ہوچکی وزیر مملکت

 پولن الرجی کا سبب بننے والے درخت کاٹے گئے‘ پیپر ملبری کے ہر ایک درخت کے بدلے تین نئے درخت لگائے جا رہے ہیں:ڈاکٹرمختار احمد
 اگر کوئی درختوں کی کٹائی سے متعلق تحقیقات کرانا چاہتا ہے تو کرا سکتا ہے، کوئی بھی درخت کاٹنے کا حامی نہیں:چیئرمین سی ڈی اے کی بریفنگ 
 اسلام آباد(آئی این پی)وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد  نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں پولن الرجی کا سبب بننے والے 80 ہزار درخت کاٹنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اب تک 30 ہزار کے قریب درختوں کی کٹائی کی جا چکی ہے۔جمعرات کے روز سینیٹر شیری رحمان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس ہوا جس میں اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی سے متعلق ایجنڈا زیرِ بحث لایا گیا۔کمیٹی اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیرِ مملکت مختار احمد نے بتایا کہ اسلام آباد میں پولن الرجی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے، اور صرف سال 2022 میں پولن کی مقدار 82 ہزار کیوبک میٹر ریکارڈ کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ 2022 میں پیپر ملبری کے درخت پولن الرجی میں اضافے کی بڑی وجہ بنے، جو 1960 کی دہائی میں جنوب مشرقی ممالک سے لا کر اسلام آباد میں لگائے گئے تھے۔ ایف نائن پارک میں 12 ہزار 800 درخت اور شکرپڑیاں میں 8 ہزار 700 درخت کاٹے گئے، جبکہ پیپر ملبری کے ہر ایک درخت کے بدلے تین نئے درخت لگائے جا رہے ہیں۔کمیٹی اجلاس کو چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے بھی اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کے حوالے سے بریفنگ دی۔انہوں نے بریفنگ میں کہا کہ جب بھی کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع کیا جاتا ہے تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ درخت نہ کاٹے جائیں، تاہم اگر کٹائی ناگزیر ہو تو ایک درخت کے بدلے تین درخت لگائے جاتے ہیں۔محمد علی رندھاوا نے بتایا کہ اگر کوئی درختوں کی کٹائی سے متعلق تحقیقات کرانا چاہتا ہے تو کرا سکتا ہے، کوئی بھی درخت کاٹنے کا حامی نہیں تاہم پولن الرجی کے باعث پیپر ملبری کے درخت کاٹے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ پولن الرجی کے درخت کاٹنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے موجود ہیں جن پر عمل درآمد کیا گیا