30 ہزار طلبہ ڈگریوں کی تصدیق کے منتظر: سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف

اجلاس میںقومی کانفرنس برائے تعلیم بلانے کا فیصلہ، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی اور صوبائی وزرائے تعلیم کو بھی بلایا جائے گا
 اسلام آباد (آئی این پی )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ 30 ہزار طلبہ اپنی ڈگریوں کی تصدیق کے منتظر ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت نے قومی کانفرنس برائے تعلیم بلانے کا فیصلہ بھی کرلیا ہے، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی اور صوبائی وزرائے تعلیم کو بھی بلایا جائے گا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہو ا کہ ملک بھر کے 30 ہزار طلبہ اپنی ڈگریوں کی تصدیق کے منتظر ہیں، اجلاس کے دوران طلبہ یونینز پر پابندی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ حکومت سپریم کورٹ کے طلبہ یونینز کی بحالی کے فیصلے پر عمل در آمد کروائے۔ سینیٹر مسرور سیال نے کہا کہ پہلے سکول لیڈرز ہوتے تھے، ایک نئی نسل نچلی سطح سے سیاست میں آرہی تھی، ہم فیصلہ کریں کہ طلبہ یونین پر پابندی ختم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی قیادت سامنے آتی ہے تو ملک میں بحران پیدا ہوتے ہیں۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ طلبہ یونین بحال کرنے کے حوالے سے پہلے بھی کمیٹی میں فیصلہ ہوچکا ہے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ طلبہ یونین کی بندش کے پیچھے سیاسی نہیں بعض دیگر طاقتوں کا ہاتھ ہے۔وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ طلبہ یونین بحال ہونی چاہئیں، طلبہ یونین کی بندش کے بعد مسائل بڑھے ہیں۔سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ سینیٹ کمیٹی سے طلبہ یونین کی بحالی منظور ہوچکی تھی۔سینیٹر فلک ناز نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں طلبہ یونین بحال کر دی گئی ہیں۔