اقوامِ متحدہ نے غزہ جنگ کے نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں جو تباہی ہوئی ہے، اس کا ملبہ صاف کرنے میں 21 سال لگ سکتے ہیں۔
اس تباہی سے غزہ میں 5 کروڑ ٹن ملبہ جمع ہو چکا ہے جسے صاف کرنے پر 12 ارب ڈالرز کی لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ اس کے علاوہ، جنگ کے دوران غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد کی صفائی بھی ضروری ہے، جس کے لیے کم از کم 10 سال درکار ہوں گے اور اس پر 50 کروڑ ڈالرز کی رقم خرچ ہو سکتی ہے۔غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال گزشتہ روز رفح کے علاقے میں سامنے آئی، جہاں اسرائیلی ڈرون نے ملبہ صاف کرتے ہوئے فلسطینی کارکنوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور 4 دیگر زخمی ہو گئے۔اسرائیلی بمباری کے دوران تباہ ہونے والی عمارتوں سے اب تک 200 سے زائد فلسطینیوں کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔
مزید 10,000 سے زائد لاشوں کے ملبے کے نیچے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے انسانی ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔یہ تباہی غزہ کی معیشت، بنیادی ڈھانچے، اور عوامی زندگی پر طویل المدتی اثرات ڈالے گی۔ تعمیر نو کے لیے کئی سال اور اربوں ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس بحران سے نمٹنے کے لیے امداد فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن اس کام کو مکمل کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیلی فوج کی جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش اور تنقید سامنے آ رہی ہے۔