اقوامِ متحدہ کا غزہ کے لیے 60 روزہ امدادی منصوبہ، فنڈز اور سامان کی کمی کا چیلنج

اقوامِ متحدہ کا غزہ کے لیے 60 روزہ امدادی منصوبہ، فنڈز اور سامان کی کمی کا چیلنج

اقوامِ متحدہ نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد فوری انسانی امداد کے لیے 60 روزہ منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت لاکھوں فلسطینیوں کو مدد فراہم کی جائے گی۔

 منصوبہ کے مطابق، جنگ بندی کی صورت میں روزانہ سینکڑوں امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوں گے تاکہ غذائی بحران، پانی کی کمی، صحت کے نظام کی بحالی اور دیگر ضروری خدمات فراہم کی جا سکیں۔منصوبہ کے تحت 21 لاکھ افراد کو خوراک، 5 لاکھ شدید غذائی قلت کے شکار بچوں اور افراد کو خصوصی امداد، 2 لاکھ افراد کو نقد رقم، اور 14 لاکھ کو صاف پانی، نکاسیٔ آب اور صفائی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، صحت کے نظام کو بھی بحال کیا جائے گا، جس میں ہنگامی طبی امداد، زچگی، نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال، اور نفسیاتی علاج شامل ہے۔ ہر ہفتہ ہزاروں خیمے اور 7 لاکھ بچوں کے لیے عارضی سکول بھی قائم کیے جائیں گے۔

تاہم، فلیچر نے نشاندہی کی ہے کہ امدادی کارروائیوں کے لیے چند اہم شرائط ضروری ہیں، جن میں ہفتہ وار کم از کم 19 لاکھ لیٹر فیول، کھانا پکانے والی گیس کی ترسیل، متعدد امدادی راستوں کی دستیابی، اور قافلوں کی سیکیورٹی شامل ہیں۔ موجودہ حالات میں، اقوامِ متحدہ کے پاس صرف 28 فیصد فنڈز اور 170,000 ٹن امدادی سامان موجود ہے، جو ابتدائی 60 دن کے لیے ناکافی ہے۔ فنڈز کی کمی اور سامان کی محدود مقدار، امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سبب بن رہی ہیں۔