غزہ میں امداد کے منتظر شہری ایک بار پھر اسرائیلی بمباری کا نشانہ، 60 شہادتیں، اقوامِ متحدہ کا شدید خدشہ

غزہ میں امداد کے منتظر شہری ایک بار پھر اسرائیلی بمباری کا نشانہ، 60 شہادتیں، اقوامِ متحدہ کا شدید خدشہ

غزہ : فلسطینی علاقے غزہ میں خوراک اور امداد کی تلاش میں نکلنے والے نہتے شہریوں پر اسرائیلی افواج کی بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں جمعہ کے روز کم از کم 60 افراد شہید ہوگئے۔

 ان میں 31 افراد وہ تھے جو قطاروں میں خوراک کے انتظار میں کھڑے تھے۔

امداد کے مقام پر براہ راست حملے
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود باسل کے مطابق:جنوبی غزہ میں 5 افراد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ امدادی سامان کے انتظار میں کھڑے تھے۔جبکہ نیٹساریم کاریڈور کے قریب 26 مزید فلسطینی شہید ہوئے، جہاں روزانہ ہزاروں لوگ خوراک کے لیے پہنچتے ہیں۔یہ علاقہ اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول ہے اور امدادی قافلوں کے لیے "محفوظ راستہ" تصور کیا جاتا تھا۔

اسرائیلی مؤقف اور متنازعہ فاؤنڈیشن
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ:"مشکوک افراد کے قریب آنے پر وارننگ فائر کیا گیا، اور نہ رکنے پر فضائی کارروائی کی گئی۔"ادھر اسرائیل اور امریکا کی حمایت سے بننے والی "غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن" پر اقوام متحدہ اور بڑی بین الاقوامی تنظیموں نے اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ:"یہ ادارہ امداد کے بجائے اسرائیلی فوجی ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے۔"
معصوم جانیں اور تباہ حال انفرااسٹرکچر
مختلف مقامات پر کیے گئے فضائی حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں:

دیئر البلح میں 14 افراد شہید۔
غزہ سٹی میں 3 حملے، 13 شہادتیں۔ ایک حملہ فون چارجنگ اسٹیشن پر ہوا۔
جنوبی غزہ میں فائرنگ کے دو الگ واقعات میں 2 افراد جاں بحق ہوئے۔
یونیسیف کا انتباہ: ’’بچے بھوک سے مر رہے ہیں‘‘
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا:"غزہ میں صرف 40 فیصد صاف پانی فراہم کرنے والے پلانٹس فعال ہیں، جب کہ غذائی قلت کے باعث چھوٹے بچوں میں شدید کمزوری کے کیسز 50 فیصد تک بڑھ چکے ہیں۔"انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خوراک کی تلاش میں زخمی ہونے والی ماؤں اور بچوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، جن میں ایک بچہ ٹینک شیلنگ کا شکار ہو کر دم توڑ گیا۔

 حماس: اسرائیل بھوک کو ہتھیار بنا رہا ہے
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے الزام عائد کیا کہ:"اسرائیل دانستہ طور پر ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں لوگ خوراک لینے جمع ہوتے ہیں، تاکہ بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔"جبکہ القدس بریگیڈ نے خان یونس میں اسرائیلی پوسٹ پر جوابی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

 عالمی خاموشی اور غزہ کا انسانی بحران
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مسلسل خبردار کیا ہے کہ:غزہ میں صحت، صفائی، پانی اور خوراک کے نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔20 ماہ سے جاری جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد قحط، بیماری اور نفسیاتی صدمے کا شکار ہو چکے ہیں۔مگر بین الاقوامی برادری کی طرف سے تاحال کوئی عملی قدم نظر نہیں آ رہا۔
 تجزیہ:
غزہ میں جاری صورت حال:ایک بدترین انسانی المیہ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔اسرائیل کا مؤقف بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اداروں کے شدید دباؤ میں ہے۔اگر عالمی سطح پر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔