اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تاریخی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی ہے۔ قرارداد کے حق میں 149 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ امریکا اور اسرائیل سمیت 12 ممالک نے مخالفت کی۔ بھارت سمیت 19 ممالک اجلاس سے غیر حاضر رہے۔
اس قرارداد میں واضح طور پر اسرائیل کی جانب سے بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے اسرائیلی جارحیت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں یہ اقدام ایک بڑی سفارتی پیشرفت تصور کیا جا رہا ہے۔قرارداد کے مسودے کو اقوامِ متحدہ کے کئی رکن ممالک نے پیش کیا، جن میں پاکستان بھی پیش پیش رہا۔ پاکستان نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے جنگ بندی کے فوری نفاذ اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ "یہ قرارداد انسانیت، بین الاقوامی قانون اور انصاف کی جیت ہے۔ اسرائیل کو فوری طور پر جنگی کارروائیاں بند کرنی ہوں گی اور فلسطینی عوام کو ان کا حقِ زندگی، آزادی اور تحفظ دیا جائے۔"یہ قرارداد ایسے وقت میں منظور ہوئی ہے جب غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں کے باعث انسانی بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے، ہزاروں افراد شہید، زخمی یا بے گھر ہو چکے ہیں، اور خوراک و ادویات کی شدید قلت ہے۔