مقتدرہ کی جانب سے ہر طرح کی پرکشش ڈیل کی پیشکش کی گئی، جو قبول نہیں کی،انٹرویو میں انکشاف
اسلام آباد (آئی این پی ) پی ٹی آئی رہنما سید ذوالفقار علی بخاری نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں القادر ٹرسٹ بدعنوانی کیس میں سابق وزیر اعظم کے خلاف گواہی دینے کے لیے شدید دبائو کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک انٹرویو کے مطابق زلفی بخاری نے دعویٰ کیا کہ مقتدرہ کی جانب سے انہیں ہر طرح کی پرکشش ڈیل کی پیشکش کی گئی، جو انہوں نے قبول نہیں کی۔بانی پی ٹی آئی کے بین الاقوامی مشیر برائے میڈیا زلفی بخاری پارٹی کریک ڈائون کے بعد سے لندن میں مقیم ہیں۔ انہوں نے القادر ٹرسٹ کیس کے حوالے سے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں نامزد ہر شخص کو عمران خان کے خلاف گواہی کے لیے ہر طرح کی ڈیلز کی پیشکش کی گئی لیکن خوش قسمتی سے نہ میں نے اور نہ ہی کسی اور نے اسے قبول کیا۔القادر ٹرسٹ کیس 190 ملین پائونڈ کے گرد گھومتا ہے، جن کا بزنس ٹائیکون کو فائدہ پہنچانے کے لیے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے پاکستان کو منتقل کیے جانے کے بعد غلط استعمال کیا گیا۔ میرے گھر والوں کے اغواء، گھر، کاروبار کو تباہ کرنے سے لے کر بینک اکائونٹس منجمد کرنے تک، مجھ پر دبائو ڈالنے کا کوئی حربہ، کوئی طریقہ نہیں چھوڑا گیا۔