مظفرگڑھ: سرکاری اسپتال میں مبینہ غفلت، 3 ماہ کی بچی جاں بحق

مظفرگڑھ: سرکاری اسپتال میں مبینہ غفلت، 3 ماہ کی بچی جاں بحق

مظفرگڑھ کے دیہی مرکزِ صحت بصیرہ میں مبینہ طور پر بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث تین ماہ کی بچی دم توڑ گئی۔

واقعے کے بعد محکمہ صحت نے اسپتال میں مبینہ لاپرواہی پر کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ ڈاکٹر اور ڈسپنسر کو معطل کر دیا ہے جبکہ معاملے کی تحقیقات کے لیے دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔بچی کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ سانس کی شدید تکلیف کے باعث وہ اپنی بیٹی کو دیہی مرکز صحت بصیرہ لے کر پہنچے، تاہم اسپتال میں نہ کوئی ڈاکٹر موجود تھا اور نہ ہی طبی عملہ دستیاب تھا۔

متاثرہ والد کے مطابق بچی کی حالت نازک تھی اور وہ مسلسل عملے سے آکسیجن فراہم کرنے کی درخواست کرتے رہے، لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ مجبوراً وہ خود اپنی بیٹی کو منہ کے ذریعے آکسیجن دینے کی کوشش کرتے رہے، مگر اسی دوران بچی نے دم توڑ دیا۔محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔