مظفرگڑھ: پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کے علاقے جتوئی میں شک کی بنیاد پر ایک 8 ماہ کی حاملہ خاتون نسرین مائی کو اس کے شوہر، بیٹوں اور سسر نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خاتون کے بازو اور ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔
واقعے کی تفصیل:
متاثرہ خاتون نسرین مائی پر کردار پر شک کا الزام لگا کر گھریلو افراد نے مل کر حملہ کیا۔حملے کے وقت وہ 8 ماہ کی حاملہ تھی، جو ماں اور بچے دونوں کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔
خاتون کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
پولیس کی کارروائی:
مظفرگڑھ پولیس نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرلیا۔ترجمان کے مطابق تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔دفعات تعزیرات پاکستان کے تحت خواتین پر تشدد اور جان لیوا حملے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
سماجی ردعمل اور مطالبات:
انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی افراد نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔سوشل میڈیا پر بھی واقعے کی تصاویر اور رپورٹس وائرل ہو رہی ہیں، جس سے عوامی غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔
نوٹ:
یہ واقعہ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد، شک کی بنیاد پر ظلم اور معاشرتی بے حسی کی ایک تلخ مثال ہے۔ ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے واقعات میں فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور ایسے ملزمان کو مثالی سزائیں دیں تاکہ آئندہ اس قسم کے ظلم کا سدباب ہو سکے۔