صوبائی دارالحکومت میں فضائی آلودگی اور سموگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر حکومت نے سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
ایئر پولوشن کنٹرول اتھارٹی (ای پی اے) نے اوپن فوڈ آؤٹ لیٹس، بشمول اوپن بار بی کیو پوائنٹس اور تمام کلبز کو ماحولیاتی قوانین کے تحت شامل کرتے ہوئے کریک ڈاؤن کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ای پی اے کے مطابق 60 فیصد سے زائد مقامات پر سکشن ہوڈز نصب کر دیے گئے ہیں، جس پر 1 سے 10 لاکھ روپے تک سرمایہ کاری کی گئی، اور ان کی تنصیب سے فضائی آلودگی میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔
جی ٹی روڈ، پاکستان منٹ کے قریب واقع ایم ایس بریانی ماسٹر کو قواعد کی خلاف ورزی پر سیل کیا گیا، اور سکشن ہوڈ نصب نہ کرنے والے اوپن فوڈ پوائنٹس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ ای پی اے کی بلا امتیاز کارروائی جاری ہے۔سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ سموگ کے خلاف سخت ترین اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کھانے کے کاروبار کو ماحول دوست بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور عوام کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔