پشاور میں ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے درمیان دوستانہ ماحول میں بات چیت ہوئی۔
ذرائع کے مطابق، اجلاس میں محسن نقوی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن والے علاقوں میں عوام پر تشدد نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس پر علی امین گنڈاپور نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اہلکاروں کو کبھی کبھار ڈی چوک جیسے حساس مقامات پر تعینات کیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ کے اس جواب پر وزیر داخلہ مسکرا دیے۔اجلاس کے دوران، محسن نقوی نے وزیراعظم سے وفاقی اپیکس کمیٹی کا اجلاس پشاور میں بلانے کی درخواست کرنے کا عندیہ دیا، تاکہ مختلف مسائل پر تفصیل سے بات کی جا سکے۔وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے شکوہ کیا کہ بعض پنجاب اور وفاقی وزراء کرم کے مسئلے پر غیر سنجیدہ بیانات دے رہے ہیں۔
اس پر وفاقی وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسے بیانات نہیں دیے جائیں گے اور کرم کے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے دونوں حکومتیں مل کر کام کریں گی۔علی امین گنڈاپور نے پولیس کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کا مسئلہ جلد حل کرنے کی درخواست کی، جس پر محسن نقوی نے کہا کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ کرم کے مسئلے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔