ویب ڈیسک:وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور مربوط اقدامات پر اتفاق کیا۔علی امین گنڈاپور نے سیکیورٹی کی صورتحال پر مزید روابط اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کو مل کر ایسی حکمت عملی اپنانا ہوگی جس سے صوبے میں امن و امان کی بحالی ممکن ہو۔
ضلع کرم کا دلخراش واقعہ
خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں دہشت گردوں کی فائرنگ کا ایک بڑا واقعہ پیش آیا جس میں پاراچنار سے پشاور جانے والی مسافر گاڑیوں پر مسلح افراد نے حملہ کیا۔ واقعے میں 38 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔پولیس کے مطابق مسافروں کا قافلہ محفوظ راستے پر سفر کر رہا تھا کہ گھات لگائے دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
صدر مملکت کی مذمت
صدر مملکت آصف علی زرداری نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے مسافروں پر حملہ انتہائی بزدلانہ اور انسانیت سوز عمل ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ذمہ داروں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور سخت سزا دی جائے۔
سیکیورٹی انتظامات کا اعادہ
محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ علی امین گنڈاپور نے بھی مشترکہ حکمت عملی کے لیے مزید اجلاس بلانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دہشت گردی کے واقعات کا خاتمہ ہو سکے۔
عوام کا مطالبہ
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا ہے۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کرے اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔