شادی کے رشتہ میں کئی عوامل اور رویے اس کی کامیابی یا ناکامی کا سبب بن سکتے ہیں۔
ایوولوشنری سائکولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں شادی شدہ جوڑوں کے ایسے بنیادی رویوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو طلاق کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ اس تحقیق نے تین اہم رویوں کو اجاگر کیا ہے جو شادی میں شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں:
پرواہ نہ کرنا: شادی کے رشتہ میں ایک دوسرے کی دیکھ بھال اور جذباتی تعلق انتہائی ضروری ہے۔ جب کسی شریک حیات کی طرف سے بے توجہی یا لاتعلقی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، تو یہ رشتہ میں دراڑ ڈالنے والا سب سے بڑا عنصر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں شامل ہیں: ایک دوسرے کی ضروریات کو نظر انداز کرنا، جذباتی طور پر دوسرے سے دور ہونا، یا تعلقات میں بے دلچسپی دکھانا۔ ایسے رویے رشتہ میں ناپائیدار خلا پیدا کرتے ہیں جو تعلقات کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
جب کوئی ساتھی اپنے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا: بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہر شادی شدہ جوڑے کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر ایک شریک حیات اپنے بچوں کے ساتھ مناسب سلوک نہیں کرتا یا والدین کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتا، تو یہ رشتہ میں سنگین مسائل پیدا کرتا ہے۔ اس طرح کے رویے جوڑے کے درمیان اعتماد اور احترام کو متاثر کرتے ہیں، اور اس سے طلاق کی طرف جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
جب ایک ساتھی اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے: جب ایک شریک حیات دوسرے پر اپنی مرضی مسلط کرتا ہے، یعنی اس کی آزادی یا فیصلے کرنے کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے، تو یہ رشتہ میں کشیدگی پیدا کرتا ہے۔ اس رویے میں پارٹنر کے جذبات، خیالات اور ضروریات کی قدر نہ کرنا شامل ہے۔ ایسے تعلقات میں آزادی اور مساوات کی کمی ہوتی ہے، جو بالآخر رشتہ کو ختم کرنے کی طرف لے جا سکتی ہے۔ان تین رویوں کو نظرانداز کرنے یا ان پر عمل نہ کرنے سے رشتہ میں تناؤ اور عدم اطمینان بڑھتا ہے، جو بالآخر طلاق یا علیحدگی کا سبب بن سکتا ہے۔