نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فضائی آلودگی نہ صرف جسمانی صحت بلکہ دماغی صحت پر بھی سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے، اور یہ آپ کو ڈپریشن میں مبتلا کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تحقیق انوائرمینٹل سائنس اور ایکو ٹیکنالوجی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کھلی فضا میں جانے سے فضائی آلودگی کا سامنا کرنے پر ڈپریشن ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔چینی ہربن یونیورسٹی اور برطانوی کرانفیلڈ یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں 12 ہزار مختلف افراد کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق سلفر ڈائی آکسائیڈ فضائی آلودگی کا سب سے خطرناک عنصر ثابت ہوا ہے، جو ڈپریشن میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے علاوہ کاربن مونو آکسائیڈ بھی دماغی صحت پر منفی اثرات ڈالنے والا عنصر ہے۔
تحقیق نے اس بات کی نشاندہی کی کہ فضائی آلودگی کے اثرات کو کم کر کے دماغی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں رہنمائی کی گئی ہے کہ اگر ان آلودگی پیدا کرنے والے عناصر کو کم کیا جائے، تو نہ صرف جسمانی بلکہ دماغی صحت میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔یہ تحقیق ایک اہم اشارہ ہے کہ فضائی آلودگی کا صرف ماحول پر ہی نہیں بلکہ انسانوں کی ذہنی اور نفسیاتی حالت پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے، اور اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہے۔