روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور ان کی اہلیہ لیودمیلا نے جون 2013 میں تقریباً 30 سالہ ازدواجی زندگی کے بعد علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔
اس موقع پر دونوں نے سرکاری ٹی وی پر بتایا تھا کہ فیصلہ باہمی رضامندی سے کیا گیا ہے۔ پیوٹن اور لیودمیلا کی شادی 1983 میں ہوئی تھی اور ان کی دو بیٹیاں ہیں۔ رائٹرز کے مطابق دونوں کی طلاق 2014 میں مکمل ہوئی۔اس وقت پیوٹن نے کہا تھا کہ ان کی سرکاری ذمہ داریوں اور انتہائی مصروف عوامی زندگی کے باعث دونوں ایک دوسرے کو بہت کم وقت دے پاتے تھے۔ لیودمیلا نے بھی بتایا تھا کہ دونوں طویل عرصے سے الگ زندگی گزار رہے تھے۔پیوٹن کی نجی زندگی اس کے بعد بھی میڈیا اور عوامی حلقوں میں دلچسپی کا موضوع رہی، تاہم روسی صدر عام طور پر اپنے خاندان اور ذاتی معاملات کو عوامی گفتگو سے دور رکھتے ہیں۔ 2024 میں رائٹرز نے بھی رپورٹ کیا کہ پیوٹن اپنے خاندان کے بارے میں شاذ و نادر ہی بات کرتے ہیں۔
پیوٹن نے دوبارہ شادی کیوں نہیں کی؟
پیوٹن کی جانب سے دوبارہ شادی نہ کرنے کی کوئی واضح اور باقاعدہ وجہ عوامی طور پر بیان نہیں کی گئی۔ ان کی نجی زندگی سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں ضرور سامنے آتی رہی ہیں، لیکن ان میں سے متعدد دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔پیوٹن کی طویل سرکاری مصروفیات اور نجی زندگی کو میڈیا کی توجہ سے دور رکھنے کی پالیسی ان کے بارے میں دستیاب معلومات کا نمایاں پہلو ہے۔ تاہم یہ کہنا کہ انہوں نے دوبارہ شادی صرف کسی مخصوص وجہ سے نہیں کی، مصدقہ معلومات کے بغیر قیاس آرائی ہوگی۔روس کے کریملن نے ماضی میں پیوٹن کی نجی زندگی سے متعلق بعض افواہوں اور غیر مصدقہ دعووں کو مسترد کیا ہے۔ اس لیے ان کی موجودہ ذاتی زندگی کے بارے میں غیر سرکاری دعووں کو محتاط انداز میں دیکھنا ضروری ہے۔