کینیڈین امیگریشن حکام کے نامناسب رویے پر ایرانی حکام کی فیفا کانگریس میں شرکت سے انکار

کینیڈین امیگریشن حکام کے نامناسب رویے پر ایرانی حکام کی فیفا کانگریس میں شرکت سے انکار

ایرانی فٹبال فیڈریشن نے کینیڈین امیگریشن حکام کے مبینہ نامناسب رویے کے باعث کینیڈا میں ہونے والی فیفا کانگریس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد اس معاملے نے بین الاقوامی فٹبال حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وفد، جس میں فیڈریشن کے صدر مہدی تاج، سیکریٹری جنرل ہدایت مومبینی اور نائب سیکریٹری جنرل حامد مومنی شامل تھے، باقاعدہ ویزا کے ساتھ کانگریس میں شرکت کے لیے ٹورنٹو پہنچا تھا۔ تاہم ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ ناخوشگوار واقعے کے بعد وفد نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے اور فوری واپسی کا فیصلہ کیا۔رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد ایرانی وفد نے متبادل پرواز کے ذریعے وطن واپسی کا راستہ اختیار کیا، جبکہ بعض ارکان نے ترکی کی جانب سفر کیا۔ ایرانی فٹبال فیڈریشن نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایئرپورٹ پر ان کے ساتھ غیر مناسب سلوک کیا گیا اور ایک سرکاری وفد کی تضحیک کی گئی، جس کے باعث انہوں نے کانگریس سے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب کینیڈین حکام کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی اور امیگریشن پالیسی کے تحت بعض افراد، جن کے مبینہ طور پر ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسداران انقلاب) سے روابط رہے ہیں، ان کے داخلے پر پابندیاں عائد ہیں، اور یہ پالیسی طویل عرصے سے نافذ العمل ہے۔یاد رہے کہ فیڈریشن کے صدر مہدی تاج ماضی میں ایران کی پاسداران انقلاب سے وابستگی کے حوالے سے خبروں میں رہے ہیں، جس کے باعث ان کے سفر اور بین الاقوامی سرگرمیوں پر پہلے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا امریکا اور میکسیکو کے ساتھ مشترکہ طور پر 2026 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہا ہے، اور ایران کی بین الاقوامی کھیلوں میں شرکت پہلے ہی مختلف سیاسی اور سیکیورٹی عوامل کے باعث حساس موضوع بنی ہوئی ہے۔