برآمدات بڑھائے بغیر پاکستان کے معاشی مسائل حل نہیں ہو سکتے :وزیرخزانہ

طورخم بارڈر سمیت دیگر مسائل کو جلد حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ برآمدات متاثر نہ ہوں،بر آمد کنندگان کے مسائل حل کرینگے ،محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ،وزیرتجارت جام کمال، وزیر دفاع خواجہ آصف سے پی سی ایم ای اے کے وفد کی ملاقات ، اسٹیٹ بینک کے سرکلرپر تحفظات سے آگاہ کیا 
اسلام آباد/لاہور(آئی این پی )پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے طورخم بارڈر کے گھمبیر مسائل اور اسٹیٹ بینک کے سرکلر ایف ای 2/2023پر تحفظات سے آگاہی کیلئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیرتجارت جام کمال خان سے تفصیلی ملاقات کی ، اس موقع پر وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بھی موجود تھے ۔ملاقات میں پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن انچیف عبد اللطیف ملک ، چیئرمین میاں عتیق الرحمان، سینئر رہنما اعجاز بٹ ،عثمان اشرف اور میجر (ر)اختر نذیر نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کی نمائندگی کی ۔ ملاقات میں صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اکرام الحق سمیت دیگر بھی موجود تھے۔پی سی ایم ای اے کے وفد نے وفاقی وزرا ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سرکلر ایف ای 2/2023 کی وجہ سے برآمد کنندگان کو درپیش مشکلات پر بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اکثر تکنیکی مسائل پیدا ہونے کی وجہ سے برآمدی رقوم کے حصول میں مقررہ مدت سے زیادہ وقت لگ جاتا ہے جس پر 3سے 9فیصد کا غیر معمولی جرمانہ غیر منطقی ہے ۔اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ ایسی تمام صنعتیں جو پاکستان کے لئے برآمدات کی صورت میں قیمتی زر مبادلہ لانے کا ذریعہ ہیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یقین دہانی کرائی کہ پی سی ایم ای اے کے وفد کی جانب سے طورخم بارڈر سمیت دیگر جن مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا گیا ہے انہیں جلد سے جلد حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی تاکہ برآمدات متاثر نہ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی واضح ہدایات ہیں کہ ہم نے برآمد کنندگان کے مسائل کو حل اور انہیں سہولیات فراہم کرنی ہیں تاکہ ہماری برآمدات کا حجم بڑھ سکے ۔حکومت برملا تسلیم کرتی ہے کہ برآمدات بڑھائے بغیر پاکستان کے معاشی مسائل حل نہیں ہو سکتے ۔ وزیرتجارت جام کمال خان نے کہا کہ ہم صنعتوں کے نمائندوں سے رابطے جاری رکھیں گے تاکہ مسائل کو جلد سے جلد حل کیا جا سکے۔