بلوچستان کے ضلع ژوب اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.5 ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کی گہرائی 150 کلومیٹر زیر زمین تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔واضح رہے کہ چند دن قبل بھی ژوب میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ اس وقت زلزلہ پیما مرکز نے بتایا تھا کہ شدت 5 ریکارڈ کی گئی اور زلزلے کا مرکز ژوب سے 106 کلومیٹر جنوب میں تھا۔
زلزلے کیوں آتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کی وجہ زمین کی تہہ میں موجود تین بڑی پلیٹس ہیں:
یوریشین پلیٹ
بھارتی پلیٹ
اریبین پلیٹ
زیر زمین حرارت کے جمع ہونے سے یہ پلیٹس حرکت کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں زمین ہلتی ہے اور زلزلہ پیدا ہوتا ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب پھیلتی ہیں۔زلزلے یا آتش فشاں زیادہ تر ان علاقوں میں آتے ہیں جو پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آنے کے بعد اس علاقے میں دوبارہ بڑا زلزلہ آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
پاکستان میں زلزلوں کی حساسیت
پاکستان کا تقریباً دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر واقع ہے۔
ملک کے بیشتر شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال شامل ہیں۔
حساس ترین علاقے کشمیر اور گلگت بلتستان ہیں۔
پاکستان زلزلوں کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی صورتحال خاص طور پر انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد اور یوریشین پلیٹ کے سنگم کی وجہ سے خطرناک ہے، جہاں فالٹ لائنز متحرک ہیں اور کم یا درمیانے درجے کے زلزلے وقفے وقفے سے آتے رہتے ہیں۔