ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حالیہ بیان کے بعد بھارت کی عالمی ساکھ اور سفارتی پوزیشن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان میں بھارت کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے، جس پر بھارت میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ تاہم اس بیان کی مکمل تفصیلات اور سیاق و سباق پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔بھارت کی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے بیان کو توہین آمیز اور بھارت مخالف قرار دیتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی پالیسیوں اور سفارتی حکمت عملی کے باعث بھارت کو عالمی سطح پر چیلنجز کا سامنا ہے۔کانگریس کے مطابق، حکومت کی بعض پالیسیوں، خصوصاً ہندوتوا نظریے سے جڑے اقدامات، نے ملک کی بین الاقوامی ساکھ پر اثر ڈالا ہے۔ اپوزیشن نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ایسے بیانات پر حکومتی ردعمل کا فقدان تشویش کا باعث ہے۔
دوسری جانب سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے بارے میں سخت زبان کا استعمال بین الاقوامی تعلقات میں حساسیت کو ظاہر کرتا ہے، تاہم اس کے اسباب اور پس منظر کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ماہرین کے مطابق امریکا اور بھارت کے تعلقات مجموعی طور پر مضبوط رہے ہیں، تاہم حالیہ بیانات اور بعض پالیسی اختلافات کے باعث تعلقات میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ادھر ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے مواقع پر مؤثر سفارتی ردعمل نہ ہونے سے کسی بھی ملک کو عالمی سطح پر دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات اس کی بین الاقوامی پوزیشن پر پڑ سکتے ہیں۔