افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی سرپرستی اور محفوظ پناہ گاہیں قائم رکھنے کے سبب، عالمی برادری نے اس رجیم کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے۔
دنیا کے بیشتر ممالک نے افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کو بنیادی انسانی حقوق کے غصب کے طور پر دیکھا ہے اور اس پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔عالمی برادری افغان طالبان رجیم کو بین الاقوامی فورمز پر بلانے اور باہمی تعلقات قائم کرنے سے مکمل طور پر گریزاں ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم اطلاع یہ ہے کہ، دنیا کے بڑے اقتصادی اور سیاسی اجلاسوں میں افغانستان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔پیر کو روسی دارالحکومت ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کا انعقاد ہوا۔ اس اجلاس میں افغانستان کو ایک بار بھی مدعو نہیں کیا گیا اور اس کا کوئی نمائندہ بھی موجود نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق، اجلاس میں روس، چین، بھارت، پاکستان اور دیگر ممالک نے شرکت کی، اور یہ اجلاس اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، ثقافتی اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں تعاون پر مرکوز تھا۔
اقتصادی امور کے ماہر عبدالظہور مدبر نے بتایا کہ افغانستان کو ٹرانزٹ کوریڈور کی اہمیت کے باوجود، شدت پسندانہ پالیسیوں اور اندرونی مظالم کے سبب اسے اس اجلاس میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کے ظلم و جبر اور عوام پر جبر و استبداد کے نتیجے میں، ان پر سخت ترین عالمی پابندیاں عائد کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ، عالمی برادری افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے اور اسے تنہائی کا سامنا ہے، جو اس رجیم کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔