امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا پر سخت تنقید کرتے ہوئے بعض رپورٹس کو “عملی غداری” قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ کشیدگی یا جنگی صورتحال سے متعلق بعض میڈیا اداروں کی کوریج قومی مفاد کے خلاف ہے۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹرتھ سوشل” پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ کچھ رپورٹس میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ایران عسکری طور پر امریکا کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے، جو ان کے مطابق نہ صرف غلط ہے بلکہ دشمن کو جھوٹی امید دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی خبروں کا مقصد امریکی پالیسی اور سیکیورٹی اداروں کو نقصان پہنچانا ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی رپورٹنگ کرنے والے میڈیا ادارے “امریکا کے خلاف کام کر رہے ہیں” اور انہوں نے بعض صحافیوں کو “ہارے ہوئے، ناشکرے اور احمق لوگ” قرار دیا۔ ان کے مطابق صرف وہی لوگ ایسی باتیں پھیلا سکتے ہیں جو اپنے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہوں۔رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی حالیہ دنوں میں میڈیا پر تنقید کرتے رہے ہیں، خاص طور پر ایران سے متعلق جنگی اور سفارتی صورتحال کی کوریج پر۔ ان کا مؤقف ہے کہ بعض خبریں قومی سلامتی کے معاملات کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اسی دوران امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے نامعلوم حکومتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ نے مبینہ طور پر محکمہ انصاف پر زور دیا کہ ایران سے متعلق رپورٹس کرنے والے صحافیوں کو سمن جاری کیے جائیں تاکہ ان کے خفیہ ذرائع تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ اس دعوے نے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔سی این این کی اس رپورٹ کے بعد مختلف سیاسی مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت اور میڈیا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران، امریکا اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع صرف میڈیا اور حکومت تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات امریکی داخلی سیاست اور آنے والے سیاسی ماحول پر بھی پڑ سکتے ہیں۔