توانائی بحران اور علاقائی کشیدگی کے سبب کاروباری اعتماد میں واضح کمی ہوئی، گیلپ پاکستان سروے

 توانائی بحران اور علاقائی کشیدگی کے سبب کاروباری اعتماد میں واضح کمی ہوئی، گیلپ پاکستان سروے

گیلپ پاکستان کے بزنس کانفیڈنس سروے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کے نجی شعبے میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور علاقائی کشیدگی شامل ہیں۔

یہ سروے اپریل 2026 میں کیا گیا اور ملک بھر کے 510 کاروباری اداروں کی آراء پر مبنی ہے۔ نتائج کے مطابق مجموعی طور پر کاروباری جذبات منفی رجحان میں داخل ہو چکے ہیں۔

کاروباری صورتحالسروے کے مطابق صرف 41 فیصد اداروں نے اپنی موجودہ کاروباری صورتحال کو “اچھی” یا “بہت اچھی” قرار دیا، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 13 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔ مجموعی مثبت رجحان میں بھی واضح گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

مستقبل کے بارے میں خدشات
57 فیصد کاروباری ادارے مستقبل کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں
صرف 43 فیصد نے بہتری کی امید ظاہر کی
مستقبل کے کاروباری اعتماد میں 25 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی
ملکی معیشت پر اعتماد
ملک کی مجموعی معاشی سمت پر اعتماد مزید کم ہو کر منفی 32 فیصد تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سروے کے مقابلے میں واضح گراوٹ ہے۔

بڑے مسائل
سروے کے مطابق کاروباری طبقہ جن مسائل کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے:

62 فیصد: مہنگائی اور پیداواری لاگت
37 فیصد: عمومی مہنگائی
25 فیصد: ایندھن اور پیٹرول کی قیمتیں
57 فیصد: لوڈشیڈنگ اور توانائی کی عدم دستیابی
بیرونی عوامل
تقریباً 81 فیصد کاروباری اداروں نے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کو کاروبار پر منفی اثر ڈالنے والا عنصر قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں:

73 فیصد نے مجموعی لاگت میں اضافہ رپورٹ کیا
58 فیصد نے توانائی اخراجات میں اضافہ بتایا
مجموعی رجحان
رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ معاشی اور علاقائی حالات برقرار رہے تو 76 فیصد کاروباری ادارے سمجھتے ہیں کہ آئندہ تین ماہ میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔بلال آئی گیلانی کے مطابق تمام بڑے معاشی اشاریوں میں بیک وقت کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کاروباری طبقہ بڑھتے ہوئے بیرونی لاگت کے دباؤ اور اندرونی معاشی مسائل کے باعث شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔