توانائی بحران کے پیشِ نظر حکومت نے کاروباری اوقات محدود کرنے سمیت کفایت شعاری اقدامات پر غور شروع کر دیا

توانائی بحران کے پیشِ نظر حکومت نے کاروباری اوقات محدود کرنے سمیت کفایت شعاری اقدامات پر غور شروع کر دیا

وفاقی حکومت نے بڑھتی ہوئی عالمی فیول قیمتوں اور ملک میں توانائی کے بحران کے پیشِ نظر ایندھن کے استعمال کو کم کرنے کے لیے مزید سخت اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق توانائی بچت پالیسی کے تحت کاروباری اوقات محدود کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے، جس کے تحت مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بجلی اور ایندھن کی کھپت کو کم کرنا اور تاجروں کو دن کے اوقات میں زیادہ کاروبار کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ حتمی فیصلہ وزیراعظم، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور عسکری قیادت کی مشاورت سے کیا جائے گا، جبکہ صوبائی حکومتوں سے بھی باقاعدہ رائے لی جائے گی۔دوسری جانب عالمی سطح پر کشیدہ صورتحال، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں فیول کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ اسی پیشِ نظر پاکستان میں کفایت شعاری مہم کو مزید سخت کیا جا رہا ہے، جس میں تعلیمی اداروں میں ہفتہ وار تعطیل، سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال پر پابندی اور دیگر بچتی اقدامات شامل ہیں۔

اسی تناظر میں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 138 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے سے مہنگائی میں مزید شدت آئے گی اور عوام پر معاشی دباؤ بڑھے گا۔