قتل کے 72 ‘ اقدام قتل کے 152 واقعات رپورٹ ‘اغواء برائے تاوان کے 6 اور ڈکیتی قتل کا ایک واقعہ پیش آیا‘ڈکیتی کے 8 ‘ راہزنی کے 491 واقعات
موٹرسائیکل چھیننے کے 48 ‘ کار چھیننے کے 3 واقعات‘ موٹرسائیکل چوری کے 1,802 اور گاڑیوں کی چوری کے 153 واقعات رپورٹ ہوئے
لاہور( رپورٹ: کاشف بٹ ) لاہور شہر میں بڑھتی ہوئی جرائم کی لہر نے شہریوں کے احساسِ تحفظ کو ایک بار پھر شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ رواں سال کے ابتدائی 100 دنوں کے اعداد و شمار ایک تشویشناک تصویر پیش کر رہے ہیں جہاں جرائم پیشہ عناصر بلاخوف و خطر سرگرم دکھائی دیتے ہیں اور شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ زرئع کے مطابق لاہور میں قتل، اقدام قتل، اغواء برائے تاوان، ڈکیتی، راہزنی اور چوری کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 100 دنوں کے دوران مجموعی طور پر 29,046 وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، جو امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اس عرصے میںقتل کے 72 جبکہ اقدام قتل کے 152 واقعات رپورٹ ہوئے‘غواء برائے تاوان کے 6 اور ڈکیتی قتل کا 1 واقعہ پیش آیاڈکیتی کے 8 جبکہ راہزنی کے 491 کیسز سامنے آئے،جھپٹا مارنے کی 767 وارداتیں رپورٹ ہوئیںوہیکل کرائم کے حوالے سے بھی صورتحال تشویشناک رہی موٹرسائیکل چھیننے کے 48 اور کار چھیننے کے 3 واقعات رپورٹ ہوئے موٹرسائیکل چوری کے 1,802 جبکہ کار چوری کے 25 کیسز سامنے آئے دیگر گاڑیوں کی چوری کے 153 اور چھیننے کا 1 واقعہ رپورٹ ہوااسی طرح نقب زنی کے 669متفرق چوری کے 24,608مویشی چوری کے 240 واقعات رپورٹ کیے گئے ‘ماہرین کے مطابق جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح شہریوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس گشت میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے جرائم پر قابو پایا جائے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جرائم کے خاتمے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ تاہم زمینی حقائق اس بات کے متقاضی ہیں کہ مزید سخت اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ لاہور کو محفوظ شہر بنایا جا سکے۔