ٹیکساس میں مسلم کمیونٹی کی جانب سے پیش کیے گئے ایک بڑے رہائشی منصوبے "ایپک سٹی" (EPIC City) کو ریاستی حکام نے "شریعت کے نفاذ کے خدشے" کے پیشِ نظر روک دیا ہے۔
یہ منصوبہ یاسر قاضی کی قیادت میں ایسٹ پلینو اسلامک سینٹر (EPIC) اور اس کے شراکت دار کمیونٹی کیپیٹل پارٹنرز کے ذریعے کولن اور ہنٹ کاؤنٹیز میں تعمیر کیا جانا تھا۔
منصوبے کی تفصیلات:
مجوزہ رقبہ: 402 ایکڑ
سہولیات میں شامل:
1,000 سے زائد رہائشی یونٹس
اسلامی اسکول
مسجد
کمیونٹی کالج
پارکس اور دکانیں
ریاستی حکومت کا مؤقف:
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ اور اٹارنی جنرل کین پیکسن نے منصوبے کو "انتہا پسندی پر مبنی" قرار دیتے ہوئے روکنے کے اقدامات کیے۔
الزامات میں درج ذیل نکات شامل تھے:
ٹیکساس فیئر ہاؤسنگ ایکٹ کی ممکنہ خلاف ورزی
غیر مسلموں کے خلاف امتیازی سلوک
گورنر ایبٹ نے ایک بیان میں کہا:
"ٹیکساس میں شریعت کا کوئی تصور نہیں، اور ہم کسی شریعت پر مبنی شہر یا نو گو ایریا کو وجود میں نہیں آنے دیں گے۔"
ایپک کمیونٹی کا ردعمل:
ایپک کے منتظمین نے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے وضاحت دی:
منصوبہ تمام مذاہب اور ثقافتوں کے افراد کے لیے کھلا ہوگا
کوئی شریعت کا نفاذ یا قانونی علیحدگی مقصد نہیں
منصوبہ مکمل طور پر امریکی قوانین کے مطابق ہے
ان کا کہنا تھا کہ:"گورنر کا مؤقف دراصل شریعت کے مفہوم سے لاعلمی کا نتیجہ ہے، اور ہم مذہبی ہم آہنگی اور انکلوسوِٹی (شمولیت) پر یقین رکھتے ہیں۔"
پس منظر:
یاسر قاضی امریکا میں ایک معروف مذہبی اسکالر اور ایجوکیشنسٹ ہیں، جنہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر مسلم کمیونٹی کی نمائندگی کی ہے۔ ایپک مسجد ٹیکساس کی فعال ترین اسلامی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔